آفتاب غروب ہوگیا دارلعلوم سہارنپور میں ایک پھول بجھ گیا۔شیخ الحدیث مولانا سید عاقل شاہ سہارنپوری انتقال کرگیے
انتھائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ اکابر کی عظمتوں کے امین ٬ عظیم مُحدِث ٬ شارحِ ابوداؤد شریف ٬ داماد حضرتِ اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریّا کاندھلویؒ ٬ استاذالاساتذہ حضرتِ اقدس مولانا سید محمد عاقل صاحب سھارنپوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث وناظمِ اعلیٰ جامعہ مظاھر علوم سھارنپور و رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند آج مؤرخہ 29؍ شوّالُ المکرّم 1446ھ بمطابق 28؍ اپریل 2025ء بروز پیر اس دارفانی سے رحلت فرماگئے ھیں ۔ اِنّا للہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ
سید محمد عاقل سہارنپوری 9 شعبان 1359ھ (15 اکتوبر 1937ء) کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مولانا حکیم محمد ایوب تھا۔ ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن سہارنپور کی جامع مسجد میں مکمل کیا۔ درسِ نظامی کی تکمیل دار العلوم مظاہرعلوم سہارنپور میں کی اور 1380ھ میں فراغت حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں مولانا منظور احمد خان سہارنپوری، مولانا محمد اسعد اللہ اور مولانا امیر احمد کاندھلوی شامل تھے۔ انھوں نے مفتی مظفر حسین سے بھی بعض درسی کتابیں پڑھیں۔
فراغت کے بعد 30 جمادی الثانی 1381ھ کو تدریس کے منصب پر فائز ہوئے اور 1386ھ میں استاذِ حدیث مقرر کیے گئے۔ 1387ھ میں دورہ حدیث کی اہم کتاب، سنن ابی داود، کا درس ان کے سپرد کیا گیا۔ 1390ھ میں دار العلوم مظاہرعلوم کے صدر المدرسین مقرر کیے گئے۔ انھوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے زیرِ سایہ روحانی تربیت حاصل کی اور ان کے علمی و تصنیفی کاموں میں معاونت بھی کی۔ اسی نسبت سے انھیں خلافت و اجازت بھی عطا کی گئی۔
حضرتؒ کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ مغرب دارِ جدید احاطہ جامعہمظاھر علوم سھارنپور میں ادا کی جائیگی ۔ ان شاءالل
28؍ اپریل 2025 بروز پیر
.jpeg)
No comments:
Post a Comment